جواہر لال اردو ہائی اسکول، تانڈور ،سدھاپور میں شاندار الوداعی تقریب کا انعقاد


جواہر لال اردو ہائی اسکول، تانڈور ،سدھاپور میں شاندار الوداعی تقریب کا انعقاد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

سولاپور(محمد مسلم کبیر) جواہر لال اردو ہائی اسکول تانڈور ،سدھاپور ضلع سولاپور دہم جماعت کے طلبہ کے لیے الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ مدرسہ ہذا کے روح رواں مولانا حاذق واثق سیّد ندوی کی صدارت میں الوداعی جلسہ منعقد کیا گیا ۔پروگرام کاآغاز ہونہار طالب علم عمر فاروق کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس تقریب میں بطورِ مہمانانِ خصوصی مولاعلی لوکا پلّی ،سابق ہیڈ ماسٹر عبدالمنّان شیخ، سابق ہیڈ ماسٹر ملانی، سلیم گونڈی ( گورنمنٹ آف مہاراشٹراکے اقلیتی برادری کے سانگلی ضلع کے ممبر ) بشیر شیخ، صحافی احمد صاحب موجود تھے۔ بعدِ ازاں تمام مہمانوں کا مولانا کے ہاتھوں شال دے کر استقبال کیا گیا۔ اسکول کی طالبات جویریہ، مصفرہ نے اپنے اشکبار تاثرات پیش کرتے ہوئے اس اسکول کے مولانا حاذق کی دینی وعصری تعلیم کی بے لوث خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سدھاپور جیسے پسماندہ علاقے میں دینی وعصری تعلیم کے ذریعے ہمیں سنوارنے کی جو کوشش کی ہے وہ نا قابلِ فراموش ہے ۔طالبہ خوشبو نے خوبصورت ترانہ پیش کرکے سبھوں کو محظوظ کیا ۔ہیڈ ماسٹر ضمیر شیخ نے ساتھ گزرے لمحات کو یاد کیا۔سابق ہیڈ ماسٹر ملانی نے طلبہ کو تعلیم کی اہمیت عصری چلینج اور دین کی اہمیت سے متعلق چند نصیحتیں کیں۔سابق معلم بشیر شیخ نےاپنے تجربات کی روشنی میں دسویں کے طلبہ کی رہنمائی کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔سلیم گونڈی نے نمناک آنکھوں سے مولانا حاذق کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کواسی طرح مستقبل میں محنّت کرکے کامیابی حاصل کرنے کی تلقین کی۔ مولا علی لوکاپلی نے کہا کہ مولانا حاذق نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا نظم کرکے زندگی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے قوم وملّت کے طلبہ کی دنیا و آخرت کو سنوارنے کا ایک عظیم کام انجام دے رہے ہیں یہ ادارہ بھی ایک دن شاہین بیدر ادارے کی طرح بڑی آب وتاب کے ساتھ ابھرے گا۔ مولانا کی محنّت و قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھیں سولاپور کے سر سیّد سے تعبیر کیا۔ عبدالمنّان شیخ سر نے کہا کہ مولانا صاحب جیسے دنیا میں بہت کم لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کو سنوارنے میں لگے ہیں۔چند سالوں پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہاں دینی تعلیم و عصری تعلیم کا بہترین نظام ہوسکتا ہے مولانا نے نہایت سنجیدگی اور نظم وضبط کے ساتھ طلبہ کو دونوں علوم کی تعلیم سے آراستہ کرنے کی لگن میں لگے ہیں امتحان کے حوالے سے سبق آموز نصحتیں کیں اور امتحان میں کامیابی کی دعا کی۔خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے مولانا نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ کہا کہ یہ علاقہ یہاں کے لوگ دینی اور عصری تعلیم سے بہت دور تھے یہ اللہ کا کرم یہاں کے لوگوں کا ساتھ ہماری اور لوگوں کی محنتوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ہم نے جنگل کو منگل بنایا۔مزید کہا کہ علم دین اللہ کا خوف پیدا،کرتا ہے اور حرام سے بچاتا ہے ۔عصری تعلیم انسان کو قبر تک اور دینی آخرت کی پونجی ہے۔طلبہ کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے اساتذہ کی محنّت کا اعتراف کرتے ہوئے عہد کیا کہ ہم شاندار نتائج کے ذریعے مدرسہ کا نام روشن کریں گے۔جملہ اسٹاف اور طلبہ کو دعائیں دیں نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔پورے پروگرام کی نظامت ہونہار طالبہ شائستہ اسحاق شیخ نے اپنے مخصوص اور خوبصورت انداز میں پیش کرکے سبھوں کو متاثر کیا۔امیر شیخ سر نے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے بے حد محنّت کی عظیم سر کے اظہارِ تشکّر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا ۔

Md.Muslim Kabir,
Latur Distt. Correspondent ,
URDU MEDIA, 
9175978903/8208435414
alkabir786@gmail.com

Post a Comment

0 Comments