مراٹھا، مسلم اور دھنگر سماج کی پسماندگی دور کرنے کے لئے ریزرویشن دینا از حد ضروری ۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈووکیٹ بیریا


مراٹھا، مسلم اور دھنگر سماج کی پسماندگی دور کرنے کے لئے ریزرویشن دینا از حد ضروری ۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈووکیٹ بیریا 
====================



سولاپور (محمد مسلم کبیر) مہاراشٹر ریاست میں مراٹھا، مسلم اور دھنگر سماج کو ریزرویشن دینے کے متعلق مستقل مانگ ہو رہی ہے گزشتہ کئی مرتبہ احتجاج کئے گئے ہیں۔مہاراشٹر حکومت نے تقریبا ۹ سال پہلے مراٹھا اور مسلم سماج کو تعلیم اور نوکریوں میں ریزرویشن دینے کاایک رائے سے بل پاس کیا تھا۔اسی طرح دھنگر سماج نے بھی اپنی پسماندگی دور کرنے کے لئے بار بار احتجاج کرکے ریزرویشن کی مانگ کی ہے ۔موجودہ حالات میں مراٹھا، مسلم اور دھنگر سماج کو ایک ہی وقت میں ایک ساتھ جلد سے جلد ریزرویشن دیا جائے۔سابق میر ایڈووکیٹ بیریا نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے، نائب وزیر اعلی اجیت پوار ، دیویندر فڑنویس اور راشٹر وادی کانگریس کے ملکی صدر اور سابق وزیر اعلی مہاراشٹر شرد چندر پوار سے مانگ کی ہے۔
      مراٹھا سماج کو ۱۳ فی صد اور مسلم سماج کو ۵ فی صد ریزرویشن دینے کا حکم نامہ آگاڑی سرکار نے جاری کیا تھا، لیکن فڑنویس سرکار نے مسلم سماج کو دیے گئے ریزرویشن کے حکم نامہ کو منسوخ کر دیا۔اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو مسلم سماج تعلیمی، سماجی اور سیاسی پسماندگی میں تمام سماج سے پچھڑا ہوا ہے ۔ اسی لئے مرکزی حکومت نے گوپال کمیشن، منڈل آیوگ، سچر کمیٹی، مشرا کمیشن، محمودالرحمن کمیشن، جیسے مختلف کمیشن بنایا تھا ان تمام کمیشن نے آئین کی دفعہ ۱۴ ،۱۵ اور ۱۶ کے تحت مسلم سماج کو تعلیم اور نوکریوں میں ریزرویشن دینے کی سفارش کی ہے۔ اس وقت صرف ۴ فی صد مسلم سرکاری نوکریوں میں اور ۲ فی صد اعلی مقام پر فائز ہیں۔ سچر کمیٹی نے اپنے احوال میں کہا ہے کہ مسلم سماج پسماندگی سے بھی نیچھے اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ اس سچائی کو جان کر تامل ناڈو ،کیرلا اور اندھر پردیس کی سرکاروں نے مسلم سماج کو ریزرویشن دیا ہے۔ اسی نہج پر مہاراشٹر کی آگھاڑی سرکار نے بھی فیصلہ لیا تھا لیکن فڑنویس سرکار نے مسلم سماج کو دیے گئے ریزرویشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ہائے کورٹ نے مسلم سماج کو دیے جانے والے ریزرویشن کو صحیح مانا ہے۔اگر ہم دیکھے تو تعلیمی، سماجی اور سیاسی پسماندہ سماج کو آئین میں ریزرویشن دینے کی بات کہی گئی ہے۔ ۱۰ اگست ۱۹۵۰ کو اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر راجندر پرساد نے ہندو سماج سے دوسرے دھرم کو قبول کرنے والے پسماندہ لوگوں کو آئین کی دفعہ ۳۴۱کے تحت ریزرویشن دینے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ موجودہ حالات میں مراٹھا، مسلم اور دھنگر سماج کو ریزرویشن ملنا چاہیے اس کے لئے مہاراشٹر میں ہر طرف احتجاج کی آگ لگی ہوئی ہیں۔ ان تمام کو ریزرویشن دینا ہے تو ۵۰ فی صد ریزرویشن کی حد سے تجاوز کرنے پر ریاستی دستور کی دفعہ ۶ کے تحت اس میں تبدیلی کرنا ضروری ہے اور وہ مہاراشٹر کی حکومت کو ریزرویشن شوشل بیک ورڈ کلاس کے احوال کے مطابق کرنا چاہیے ۔ مسلم ریزرویشن کے متعلق گزشتہ حکومت کا فیصلہ اور جاری کردہ حکم نامہ پر ہائی کورٹ مثبت رول اور مختلف کمیٹیوں کے ذریعے دیئے گئے احوال کے مطابق مسلم سماج کو ریزرویشن دینا یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔مسلم سماج کی طرح مراٹھا سماج کو بھی ریزرویشن دینے کا فیصلہ اس حکومت نے لیا تھا لیکن ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو غلط قرار دیا۔اس کے بعد حکومت نے ایک کمیٹی قائم کر احوال حاصل کیا ہے۔اسی طرح دھنگر سماج نے بھی ریزرویشن کے متعلق احتجاج کرکے ریزرویشن کی مانگ کی ہے۔مراٹھا، مسلم اور دھنگر سماج کی پسماندگی دور کرنے کے لئے جلد سے جلد تعلیم اور نوکریوں میں ریزرویشن دیا جائے ایسی مانگ اس مراسلہ کے ذریعے کی گئی ہے۔

Md. Muslim Kabir 
Latur Distt. Urdu Media
alkabir786@gmail.com
9175978903/8208435414

Post a Comment

0 Comments