بہترین معاشرے کے لئے طلباء و نوجوانوں میں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت بھی لازمی ۔۔ حضرت مولانا سیّد محمود شاہد میاں صاحب
____________________________________________
لاتور(محمد مسلم کبیر)آج ہمارے ملک عزیز ہی نہیں بلکہ عالمی سطح کے سیاسی،سماجی،اقتصادی حالات نا گفتنی ہیں۔لیکن ہمیں ہر حال میں اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھتے ہوئے اسوہ رسول اکرمﷺ کے مطابق زندگی بسر کرتے ہوئے حالات کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔یہ بات حضرت مولاناسیّدمحمود شاہد میاں صاحب(جانشین دائرہ حضرت میاں سیدمحمدغازیؒ میندرگی ضلع شولاپُور) نے کہی۔مہدویہ ینگ سرکل اوسہ کی جانب سے شہر اوسہ کے ایچ ایس سی اور ایس ایس سی کامیاب مہدوی طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اپنے دست مبارک سے اعزازات سے نوازتے ہوئے حضرت مولانا سیّدمحمود شاہد میاں صاحب نے فرمایا کہ طلبہ قوم کے مستقبل ہیں۔اس کے ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہیں۔اُنہوں نے فرمایا کہ فی زمانہ عصری تعلیم کا حصول نا گزیر ہے۔اس کو ضرور حاصل کریں۔کسی بھی شعبہ،مضمون میں مہارت حاصل کریں بلکہ قومی پبلک سروس،ریاستی پبلک سروس،ائی ائی ٹی،میڈیکل، انجنئیرنگ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وکالت جیسے شعبہ جات میں قسمت آزمائی کریں۔لیکن دینی تعلیم و تربیت کو بھی مقدم جانیں۔جب تک دین سے نہ جڑیں گے،ہم با اخلاق،ایماندار اور دیندار معاشرہ یا سماج قائم نہ کر سکیں گے۔سماجی زندگی میں چل رہے برائیوں کی کئی مثالیں پیش کرتے ہوئے حضرت موصوف نے فرمایا کہ جب تک ہم میں اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اسوہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور امامنا سیّد محمد مہدی موعود علیہ السلام کے طرز کے زندگی بسر کرنے والے نہ بنیں گے تب تک سماجی برائیاں ختم نہیں ہو سکتیں۔حضرت موصوف نے طلبہ کو تلقین کی کہ اپنے والدین اور بزرگوں کی خدمت اور نصیحتیں اپنے اوپر لازم کر لیں۔ موبائل کے مضر اثرات سے واقف کراتے ہوئے اس کے استعمال صرف اشد ضرورت پر ہی کرنے پر زور دیا۔ لڑکیوں کو پردے میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے موبائل کے استعمال سے پرہیز کرنے کی اپیل کی۔اور فرمایا کہ والدین ہمیشہ اپنے نوجوان بچّوں کی نگرانی کرتے رہیں۔صوم و صلوٰۃ اور ذکراللہ کی پابندی کریں۔
مسجد مہدویہ میں ہوئے اس جلسے میں اوسہ کے سابق صدر بلدیہ افسر شیخ،عمر پنجیشا،فاروق کرپوڑے،نعمت بروٹے،انور کرپوڑے،جیلانی کرپوڑے،نعمت لوہار ے،عظیم الورے،محمد عطن صہیب کبیر،خوندمیر مُلّا،کامران ہاورے،کے علاوہ اولیائے طلبہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔
0 Comments