ویلنٹائن ڈے یہ کیا ہے ؟ یہ بے حیائی کی دعوت ہے

ویلنٹائن ڈے یہ کیا ہے ؟ یہ بے حیائی کی دعوت ہے اور نہایت براہ راست ہے۔میں آپ کو واضح طور پر بتاتی ہوں یہ وہ دن ہے جس میں لوگ بےحیائی کو عام کرتے ہیں اس دن کو منانے والے جدید ذہین رکھنے والے نوجوان مرد و خواتین ہیںپر لوگ یہ بھول رہے ہیں بے حیا ئی انسان کو ذلیل و رسوا کر دیتی ہے، بے حیائی بدبختی کی علامت ہے ، بے حیائی دل کو پتھر کی طرح سخت کر دیتی ہے ، بے حیائی انسان کو معاشرے کاذلیل فرد بنا دیتی ہے، بے حیائی مُنافق کی علامت ہے، بے حیائی جنّت سے دُو ر اور جہنم کے قریب کر دیتی ہے، بے حیائی ذلّت ہے رسوائی ہےبے حیائی عام کیوں ہو رہی ہے؟ یہ بے حیائی معاشرے میں تب سے عام ہونے لگی جب سے ماڈرن تعلیم کے نام پر پڑھنے والے بچے مذہبی تعلیم سے دوری اختیار کرتے ہوئے ماڈرن تہذیب کے پیروکار ہو گئے ہیں۔۔ جب تک معاشرے میں مغربی تہذیب کے غلام نہیں بنے تھے وہ مذہبی تہذیب سے غافل اور انجان نہیں تھے آج مغربی تہذیب و ثقافت کی صور اتنی زور سے پھونکی جاچکی ہے کہ آج مذہبی تعلیمات سے زیادہ مغربی تہذیب کا رواج مسلم معاشرے میں بھی عام ہوتا چلا جارہا ہے پر یہ بھول رہے ہیں کہ بے حیائی اُن لوگوں کا کام ہے جس کو شریعت سے بیزاری، دین سے دوری،اللہ کے غضب سے لاپرواہی ہو۔۔ اور وہ جو گمراہ قوموں کی نقالی اور اندھی پیروی کرتے ہیں آج اس کے نتیجے میں ہمارا مسلم سماج میں نام کے تو مسلمان رہے لیکن ان کی پوری زندگی مغربی طرز جیسی ہو گئی اور وہ اسی میں ترقی کرنے لگے ہیں ۔ اور اس کو اصل کامیابی سمجھنے لگے ہیں ۔۔۔ہر مسلم خاندان کی زندگی کا ایک ہی مقصد رہ گیا ہے کہ اُس کے لڑکے لڑکیاں اچھی سے اچھی ڈگری پائیں،اعلیٰ درجے کی نوکری ملے اور عیش و آرام کی زندگی گزاریں۔اللہ کی رضا، نبیﷺ کی محبت، آخرت کی فکر،قبر کے عذاب اور جہنم کی آگ کا ذرا بھی ڈر اورفکر نہیں رہا ہے یہ صرف دنیا کمانے میں اپنے ضمیر مار رہے ہیں انہیں پرواہ نہیں کہ ان کی بیٹیاں کہاں جارہی ہیں اس طرح کے Rose Day (February 7), Propose Day (February 8), Chocolate Day (February 9), Teddy Day (February 10), Promise Day (February 11), Hug Day (February 12), and Kiss Day (February 13 یہ سارے دے منامنا کر حرام زندگی جی رہی ہیں مسلمان سمجھ نہیں رہے ہیں یہ یہودیوں کی چال ہے مسلمان مردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں تو ان کی عورتوں کو گمراہ کر رہے ہیں فرعون نے جب دشمنِ قوم بنی اسرائیل کو مٹانا چاہا تو اُس قوم کے بچوں کو قتل کراتا تھا۔ دور جدید کے فرعونوں نے معاملے کو الٹ دیا ۔ انہوں نے ہمارے قوم کی عورتوں کو نشانہ بنایا ہےکیوں کہ مسلمانوں کی عورتوں کو برباد کردیے تو خود بہ خود ان کی نسل تباہ و برباد ہو جائے گی۔اور آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ صرف اپنے ملک ہندوستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلم ملکوں میں عورتیں کس طرح گمراہی کا شکارہو رہی ہیں۔ ایران جوکبھی اسلامی ملک کہا جاتا تھا وہاں کی عورتیں بے حجاب ہونے کے لئے احتجاج کر رہی ہیں۔ گویا اسلام کے دشمنوں کی شیطانی طاقتیں پوری دنیا میں مسلم سماج کو تباہ و برباد کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور ہم نادان بد عقل ان سازش کو سمجھ کے اس کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کا شکار بن کر اپنی آنے والی نسل کو تباہ و برباد کرنے پر خوشی سے آمادہ نظر آرہے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments