پونے(محمد مسلم کبیر) پارلیمنٹ کے گرمائی سیشن کا آغاز 10 مارچ سے جاری ہے۔اب یہ وقف ترمیمی بل مودی حکومت کے ذریعے راجیہ سبھا میں کسی بھی وقت پیش کیا جا سکتا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، وقف ترمیمی بل کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہا ہے۔ بورڈ کی ایماء پر 17 مارچ کو مولنيواسی مسلم منچ اور کل جماعتی تنظيم، مہاراشٹر مسلم فرنٹ، بھیم چھاوا آرگنائزیشن، تحریک اوقاف ٹرسٹ، نیشنل کرسچن فیڈریشن، ایکشن کمیٹی، پونے کلکٹر آفس کی پہل پر پونے کلکٹر آفس میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔سلیم ملا، ابراہیم یوتمل والا، مشتاق قاضی، سلیم مولا پٹیل اور دیگر معززین اس احتجاجی تحریک میں شامل ہوئے۔
اس موقع پر چیف آرگنائزر انجم انعامدار نے کہا کہ مودی حکومت کی مسلم وقف بورڈ کی موقوفہ اراضیات پر بری نظر ہے۔ 2014 میں مودی سرکار اقتدار میں آنے کے بعد مختلف بلس،اور قوانین وضع کرکے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا کام کسی بھی صورت حال میں کیا جا رہا ہے، چاہے وہ نام نہاد لو جہاد کے نام پر ہو یا زمینی جہاد یا پھر بلڈوزر کی سیاست،حکومت پورے ہندوستان میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا کام کر رہی ہے۔حکومت وقف بورڈ کی اراضی کے بارے میں غلط پالیسی مرتّب کرے تو کوئی مسلمان اسے کبھی برداشت نہیں کرے گا، ہمارے آباؤ اجداد نے نیک نیت سے قوم کی فلاح و بہبودی کے لیے اپنی اراضیات کو وقف کیا تھا۔ مودی سرکار کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کے نام پر وقف شدہ زمین کا کوئی سودا نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس زمین پر کوئی قبضہ کر سکتا ہے۔ اگر وقف ترمیمی بل نفاذ میں آیا تو ملک عزیز میں بغاوت کا ماحول ہوگا۔انجم انعامدار نے خبردار کیا کہ وقف ترمیمی بل کے خلاف سماج میں عوامی بیداری پیدا کرنے کا کام مقامی مسلم فورم کی جانب سے کیا جائے گا اور رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام کے بعد پونے میں ایک بڑی احتجاجی تحریک کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔


0 Comments