*نئے تعلیمی سال کے چیلنجیز کے لیے اساتذہ کمر بستہ ہوجائیں- سید شریف*

 *نئے تعلیمی سال کے چیلنجیز کے لیے اساتذہ کمر بستہ ہوجائیں- سید شریف*





نئے تعلیمی سال کے موقع پر   آئیٹا مہاراشٹر کا پیغام 


ممبئی: (14جون) تعلیمی سال کی آمد آمد ہے۔  تعلیمی میدان میں کام کرنے والوں کے لئے ہر نیا تعلیمی سال گذشتہ سال کے مقابلے میں نئے چیلنجز کے ساتھ امکانات کے بے شمار مواقع لے کر آتا ہے۔ تعلیمی سال کے آغاز پر آئیٹا مہاراشٹر کے ریاستی صدر جناب سید شریف صاحب نے تمام اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تعلیم کا منظر نامہ آنے والے برسوں میں بڑی تیزی سے بدلنے والا ہے۔ نیو ایجوکیشن پالیسی ٢٠٢٠ اور نیشنل کریکولم فریم ورک ٢٠٢٣ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی ہونے جارہی ہے۔ 

وہیں  دوسری جانب مصنوعی ذہانت بھی اپنی پوری آب تاب کے ساتھ ہر شعبہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ اس موقع پر  موصوف نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ قومی نصابِ تعلیم کے خاکہ میں اگر ہم اپنے اساتذہ کا جائزہ لیں تو ٨٠ فیصد سے زائد اساتذہ کی اہلیت ناکافی ہوگی۔ جس کے نتائج بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔  ایسے نازک حالات میں ہم اساتذہ پر خاص طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ ہم حالات سے موافقت پیدا کرتے ہوئے اپنے آپ کو اپڈیٹ رکھیں اور اپنے تعلیمی اداروں کو بھی اس سے ہم آہنگ کرنے کی فکر کریں ۔ ہم اپنا ایک ویژن سیٹ کریں اور اسی کے مطابق اسکول اور سماج میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور بلند کرنے کے لئے کوشاں رہیں۔






محترم سید شریف صاحب نے اساتذہ کے نام جاری پیغام میں کہا کہ،  ١٥ جون ٢٠٢٣ سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہے۔  اس موقع پر ہم نئے تعلیمی سال کا پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ استقبال کرتے ہے۔ اور اساتذہ سے گزارش کرتے ہیں  کہ اساتذہ اپنے آپ کو اپڈیٹ کرتے رہیں اور بالخصوص نیو ایجوکیشن پالیسی ٢٠٢٠ اور نیشنل کریکولم فریم ورک ٢٠٢٣ کا مطالعہ کریں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کی بھی فکر کریں۔ آپ نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انشاءاللہ اساتذہ جدید پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے آراستہ ہوکر نئی نسل کو زمانے کے عصری تقاضوں کے مطابق جدید تناظر میں تعلیم وتربیت کے سامان فراہم کرتے ہوئے چیلنجز کا جواں مردی اور ثابت قدمی سے مقابلہ کریں گے۔اور صالح معاشرے کی تعمیر میں اپنا نمایاں کردار ادا کریں گے۔

Post a Comment

0 Comments