مجلس اتحاد المسلمین کا وقف ترمیمی بل کے خلاف اوسہ تحصیل کے روبرو احتجاج ۔۔۔

 

مجلس اتحاد المسلمین کا وقف ترمیمی بل کے خلاف اوسہ تحصیل کے روبرو احتجاج ۔۔۔






لاتور (محمد مسلم کبیر)مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں کالا قانون وقف ترمیمی ایکٹ 2025 پاس کر دیا ہے۔ یہ قانون مسلمانوں کو اُن کے حقوق سے محروم کرتا ہے اور ان کے حقوق کو پامال کرتا ہے۔ ہمارے اسلاف نے یہ زمین خدا کے نام پر امت مسلمہ کی ترقی اور مذہبی مقاصد جیسے درگاہوں،مساجد، عیدگاہوں، امام باڑے، قبرستانوں، آشرموں، خانقاہوں، تقیہوں وغیرہ کے لیے وقف کی ہے اور یہ دائمی وقف کے تابع ہے، اور اس ترمیم شدہ بل سے مسلم کمیونٹی متاثر ہوگی۔ مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون مسلم سماج کے محروم طبقات کی فلاح و بہبودی کے لیے لایا گیا ہے۔ تاہم، مذکورہ قانون میں ترمیم کی گئی ہے کہ اس میں دیگر مذاھب کے لوگوں کی دراندازی کی اجازت دی جا سکے۔ تاہم مذکورہ قانون عددی طاقت کے زور پر آئین ہند کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنا کر منظور کیا گیا ہے۔ اوسہ میں مجلس اتحاد المسلمین اور مسلم کمیونٹی نے اوسہ تحصیل آفس کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کیا اور اوسه تحصیلدار کے توسط سے محترم صدر جمہوریہ ہند کو ایک محضر پیش کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مذکورہ قانون کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ اس موقع پر مجلس اتحاد المسلمین کے قائد سید مظفر علی انعامدار، شیخ نعیم، شیخ علیم، شیخ مشیر، ہارون خان پٹھان، اظہر قریشی، اسماعیل باغبان، عرفان باغبان، سہیل سوداگر، ارشاد تڈولے، شیخ عرفان، شیخ عمران، شیخ کلیم، سید حافظ وغیرہ موجود تھے۔



MD.MUSLIM KABIR,

Latur Distt. Correspondent,

URDU MEDIA 

Email, alkabir786@gmail.com

Cell- 09175978903/8208435414


Post a Comment

0 Comments