مراٹھی ادب میں مسلمانوں کی سماجی و ثقافتی زندگی کی عکاسی ہنوز غیر مؤثر ۔۔۔ عبد القادر مقادم
اکھل بھارتیہ مسلم مراٹھی ساہتیہ سمیلن کے9 ویں افتتاحی اجلاس سے خطاب ۔۔
مسلم مراٹھی قلمکاروں کی حوصلہ افزائی اور ترغیب سمیلن کا مقصد ۔۔۔ ایوب نلا مندو
حکومت مسلم مراٹھی ساہتیہ پریشد کی سرپرستی کرے۔۔۔ اُتم کامبلے



ناشک، ایف ایچ بینّور نگر(محمد مسلم کبیر) ناشک شہر میں 28 اور 29 جنوری2023 کو اکھل بھارتیہ مسلم مراٹھی ساہتیہ سمیلن کے9 واں اجلاس جاری ہے۔ان دو روزہ اجلاس میں مختلف پروگرام کو قطعیت دی گئی ہے۔آج اس اجلاس کی افتتاحی تقریب عمل میں آئی۔جس کی صدارت جناب عبدالقادر مقادم نے کی اُنہوں نے اپنےصدارتی خطبے میں کہاکہ ادیب،ادبی تخلیق کیوں کرتے ہیں اور قارئین اسے کیوں پڑھتے ہیں؟یہ ایک ایسا موضوع ہے جو ادب کے میدان میں مسلسل زیر بحث رہتا ہے۔اس بحث سے ہی ادب کی ترغیب اور ترتیب کے تصورات سامنے آئے اور پروان چڑھے۔اگر ہم اس عمل کو کھنگالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کبھی تحریک،ادبی تخلیق کا مقصد مکمل کرتی ہے تو کبھی مقصد، ادبی تخلیق کو متاثر کرتا ہے۔اس کا مطلب ترغیب اور ترتیب یہ دونوں تصورات ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔شاید اسی وجہ سے ادبی تخلیق کی تاریخ میں ایک طرف ادبی تخلیق کے مختلف مقاصد درج کیے گئے ہیں تو دوسری طرف ترغیب، ادبی تخلیق کو پروان چڑھاتی ہے۔اس کے نتیجے میں ان دو تصورات کی وجہ سے ادب کی مختلف قسمیں وجود میں آئیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے تکمیل کا باعث ہیں۔ادب کی ان اقسام پر غور کیا جائے تو اندازاً دو بڑی اقسام سامنے آتی ہیں،وہ ہیں عمدہ ادب اور نثری ادب۔ایک بار پھر ان دو اقسام میں کچھ ذیلی قسمیں ہیں۔مثلاً افسانے،ناول،شاعری، ڈرامے،سفرنامے وغیرہ کو انشائیہ ادب میں شامل کرنا پڑتا ہے۔جبکہ سائنسی مضامین جیسے مادی سائنس،کیمسٹری،طب،فلکیات یا تاریخ،فلسفہ، نفسیات،مذہبی اور سماجی روایات وغیرہ پر ادب کو نظریاتی ادب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اکھل بھارتیہ مسلم مراٹھی ساہتیہ سمّیلن کا افتتاح عارفہ خانم شیروانی کے ہاتھوں اور صدر استقبالیہ شیخ عرفان رشید اور کنوینر پرنسپل فاروق شیخ کی موجودگی میں عمل میں آیا۔ افتتاحی خطبہ معروف صحافی محمد ایوب نلا مندو نے پیش کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ مسلم مراٹھی ساہتیہ سمیلن کی مختصر تاریخ اور اجلاس کے انعقاد کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1050سے 1850کو مراٹھی ادب کا قدیم دور سمجھا جاتا ہے۔چودھویں صدی کے شاعر عالم خان،جمال فقیر،پندرہویں صدی کے منتوجی خلجی اور منتوجی برمانی(بہمنی)، سولہویں صدی کے اٹھارہ روایتی شاھیر، سترھویں صدی کے شیخ محمد،عمبر حسین، شاہمونی،لطیف شاہ، شیخ سلطان اور جدید دور کے شہیر لہری حیدر،شاہیر امر شیخ،ڈاکٹر یو ایم پٹھان،سید امین،خلیل مظفر،شانتا بائی تڈوی تک سینکڑوں مسلمان ادیبوں،شاعروں نے مراٹھی ادب میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ان ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے مراٹھی ادبی خدمات پر روشنی ڈالنے اور موجودہ دور کے مسلم مراٹھی ادیبوں،شاعروں کی حوصلے بلند کرنے کے لئے اکھل بھارتیہ مسلم مراٹھی ساہتیہ سمیلن کی داغ بیل پڑی۔جس کی آبیاری،معروف صحافی مرحوم عبد الطیف نلامندو،مرحوم میر اسحاق، مرحوم ڈاکٹرایف ایچ بینور نے کی۔مرحومہ زلفی شیخ،ڈاکٹر عزیز نداف،ایف ایم شازندے،خلیل شیخ،بشیر مجاور وغیرہ نے مختلف سمّیلنو ں میں صدارت کی۔جناب ایوب نلامندو نے کہا کہ اولین سمّیلن سولا پور میں منعقد ہوا جس کی صدارت آج کے اس سمّیلن کے صدر جناب عبد القادر مقادام نے ہی کی تھی جو بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔
اپنے صدارتی خطبے میں جناب عبدالقادر مقادم نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں تقریباً 11 فیصد مسلم کمیونٹی ہے۔ مراٹھی ادب نے بھی معاشرے کی غیر جانبداری سے عکاسی نہیں کی۔حیران کن بات یہ ہے کہ 1885 کے بعد سے آج تک مراٹھی ادب میں مسلمانوں کو ولن، مسخرے یا جوکر کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ مراٹھی مسلمان،جو مہاراشٹر کے دس/پندرہ فیصد ہیں،مراٹھی مسلمانوں کی سماجی اور ثقافتی زندگی کی عکاسی اتنی مؤثر طریقے سے نہیں کر پا رہے ہیں جس طرح انہیں مراٹھی ادب میں پڑھایا جاتا ہے۔مراٹھی ادب بالخصوص شاعری میں مسلم معاشرے کی اذیت، درد اور مایوسی ان کی نظموں میں وسیع پیمانے پر جھلکتی ہے۔چونکہ یہ سماجی زندگی کی حقیقت ہے اس لیے ادبی مشق میں اس کا عکس نظر آنا فطری ہے۔اس حقیقت کے باوجود رجائیت مسلم مراٹھی ادب کی مستقل خصوصیت ہے۔اس موقع پر روزنامہ سکال کے سابق مدیر اُتم کامبلے نے کہاکہ ادب، معاشرے کو راہ دکھاتا ہے اور معاشرے کو نئی روشنی کی ضرورت ہے۔ اور حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کیا کہ جس طرح دیگر ساہتیہ پریشد کو مالی امداد دی جاتی ہے اُسی طرح مسلم مراٹھی ساہتیہ پریشد کو بھی دی جائے۔ اس موقع پر سابق راجیہ سبھا ممبر حسین دلوائی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
دریں اثناء اجلاس میں سولاپور سے جناب ایوب نلامندو کی زیرِ ادارت شائع ہونے والے معروف ہندی ہفت روزہ" قاصد" کے مسلم مراٹھی ساہتیہ سمّیلن خصوصی شمارہ کی رسم اجراء صدر اجلاس کے ہاتھوں عمل میں آئی۔
اس اجلاس کے دوران سولاپور سے جناب ایوب نلامندو کی زیرِ ادارت شائع ہونے والے معروف ہندی ہفت روزہ" قاصد" کے مسلم مراٹھی ساہتیہ سمّیلن خصوصی شمارہ کی رسم اجراء صدر اجلاس کے ہاتھوں عمل میں آئی۔اجلاس کا آغاز ایوب نلامندو نے تلاوت قرآن سے کی اور نعت شریف اقبال مقادم نے پیش کی۔ڈاکٹر یوسف بینّور نے دستور ہند کا عہد پڑھایا۔
اجلاس میں شہ نشین پر کنوینر ڈاکٹر فاروق شیخ،سابق رکن راجیہ سبھا حسین دلوائی، پروفیسر جاوید پاشا قریشی،کلیم عظیم،حسیب نداف،مبارک شیخ،مظہر اللوڈی،سابق نائب میئر طاہر شیخ،ڈاکٹر اقبال تامبولی،حسن مجاور، وکرم گایکواڑ، مصطفیٰ شیخ،ڈاکٹر یوسف بینّور،ڈاکٹر علیم وکیل،غلام تعبیر شیخ ڈاکٹر ثریا جاگیردار، ڈاکٹر شکیل شیخ،اسرار نلا مندو،اور دیگر حضرات کے علاوہ ریاست مہاراشٹر کے تمام اضلاع کے مسلم مراٹھی ادیب،شعراء اور دیگر مندوبین کثیر تعداد میں موجود تھے۔افتتاحی اجلاس کی نظامت منگیش جوشی، شیتل ساونت اور ہدیہ تشکر جناب ایّوب نلا مندو نے پیش کیا۔
0 Comments